ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سندھیا پر کانگریس رکن اسمبلی کو 50 کروڑ اور عہدہ وزارت کا لالچ دینے کا الزام، دگوجے سنگھ نے کہا- ’جواب دے بی جے پی‘

سندھیا پر کانگریس رکن اسمبلی کو 50 کروڑ اور عہدہ وزارت کا لالچ دینے کا الزام، دگوجے سنگھ نے کہا- ’جواب دے بی جے پی‘

Sun, 01 Nov 2020 13:12:13    S.O. News Service

بھوپال،یکم نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت میں وزیر رہے کانگریس کے رکن اسمبلی امنگ سنگھار کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا جیوتیرادتیہ سندھیا نے انہیں 50 کروڑ روپے اور عہدہ وزارت کا لالچ دیا تھا۔ اس الزام کے بعد صوبہ کی سیاست میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور کانگریس بی جے پی اور جیوتیرادتیہ سندھیا پر حملہ آور ہیں۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ جیودتیرادتیہ سندھیا کو ان الزامات پر جواب دینا چاہئے۔

بدناور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دگوجے سنگھ نے کہا کہ امنگ سنگھار جیوتیرادتیہ سندھیا کے خاصل تھے، لہذا انہوں نے جو الزامات عائد کئے ہیں ان پر سندھیا کو وضاحت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھیا کو بتایا چاہئے کہ امنگ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ۔

اس دوران دگوجے سنگھ نے شیوراج سنگھ پر بھی نشانہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ شیوراج سنگھ چوہان کو اٹل بہاری واجپئی سے سیکھ لینی چاہئے۔ انہوں نے ایک ووٹ کی کمی ہونے پر حکومت کا گر جانا پسند کیا تھا، وہ اصول پسند تھے۔

قبل ازیں، مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اور کانگریس کے رکن اسمبلی امنگ سنگھار نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر خرید وفروخت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھی لالچ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ امنگ سنگھار نے دھار ضلع میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں یہ الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ سینئر لیڈر جیوترآدتیہ سندھیا کی جانب سے انہیں لالچ دینے کی کوشش کی گئی تھی جسے انہوں نے قبول نہیں کیا۔


Share: